رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔

تعلیماتِ اِسلام۔

تمام تعلیماتِ اِسلام انسانیت پر مرکوز ہیں۔ خدا کی طرف سے نازل کردہ کتابوں اور صحیفوں میں اللہ تعالیٰ نے جتنے احکام نازل کیے ہیں وہ سب کے سب انسانیت کے قیام اور لوگوں کو ایک خدا کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہیں۔ ان میں سے کچھ مخصوص تعلیمات زیر غور ہیں۔

۱۔ سُنّتُﷲ یعنی لَا اِلٰهَ اِلَّا ﷲ ؕ۔

تعلیماتِ اِسلام کی پہلی تعلیم سُنّتُﷲ یعنی لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا ﷲ ؕ (نہیں ہے کوئی مگر صِرف ﷲ) ہے۔ والِد مُحترم آدمؑ سے لیکر ﷲ کے آخری پیغمبر مُحمّدؐ تک ہر ایک پیغمبر کے لِئے ﷲ تعالیٰ کی یہی سُنّت رہی ہے۔ اور یہی پیغام رہا ہے۔ تمام نبیؤں نے اِسی پیغام کی تعلیم دی، اور اِسی پیغام کی دعوت۔

بیشک جب کُچھ نہیں تھا تب بھی ﷲ موجود تھا۔ اُس وقت اُس کا عرش پانی پر تھا۔ اُس نے چھ دِن میں اِس کائیِنات کی تخلیق کی۔ یعنی جو کُچھ بھی اِس کائیِنات میں موجود ہے، خواہ وہ ہمارے لِیے حاضِر ہو یا غائب، ہر چیز ﷲ کی قُدرت ہے۔ یعنی ہم اور اس کائنات کی تمام مخلوقات اللہ کی قُدرت کے محض مظہر ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ نہیں ہے کوئی مگر صِرف ﷲ‘‘۔

سو ہر جِن واِنس کے لِئے اِسلام کی پہلی تعلیم یہ ہے کہ صِرف اُس رَبِّ کریم کی عِبادت کرو، جو تمام عالم کا بھی رَبّ ہے۔ کِسی بھی صورت ﷲ کے ساتھ کِسی دوسرے کو شریک نہیں کرو۔ پِھر بھلے! وہ نبی ہی کِیوں نہ ہو۔ ﷲ کے ساتھ کِسی دوسرے کو شریک کرنے والا مُشرِک یا کافِر کہلاتا ہے۔ ﷲ فرماتا ہے کہ قِیامت کے دِن بڑے سے بڑے گُنہگار کو معافی مِل سکتی ہے، مگر کافِر کو مُعافی نہیں ہوگی۔

شَرَعَ لَـكُمۡ مِّنَ الدِّيۡنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوۡحًا وَّالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهٖۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى وَعِيۡسٰٓى اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ‌ؕ ﴿۱۳﴾

Q-42:13

آپ کو اس دین کا حکم دیا گیا ہے جس کا ہم نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی تھی اور جس کا ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا: دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔

وَاِلٰهُكُمۡ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ  ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِيۡمُ‏ ﴿۱۶۳﴾

Q-02:163

اور تُمہارا معبُود ایک ہی مَعبُود ہے، اُس کے سِوا کوئی مَعبود نہیں جو بڑا مہربان نِہایت رحم والا ہے

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ لَاۤ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَسِعَ كُلَّ شَىۡءٍ عِلۡمًا‏ ﴿۹۸﴾

Q-20:98

تُمہارا مَعبود صِرف ﷲ ہے، اُس کے سِوا کوئی مَعبود نہیں، وہ ہر چِیز کو عِلم کے ساتھ گھیرے ہوئے ہے

رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَاعۡبُدۡهُ وَاصۡطَبِرۡ لِـعِبَادَتِهٖ‌ؕ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهٗ سَمِيًّا‏ ﴿۶۵﴾

Q-19:65

آسمانوں اور زمِین اور اُن کے درمِیان جو کُچھ ہے اُن سب کے رَبّ کی عِبادت کرو۔ اور اُس کی عِبادت پر صَبر کرو۔ کیا آپ کے عِلم میں اُس جیسا کوئی اور ہے؟

وَاِنَّ اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ ‌ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ‏ ﴿۳۶﴾

Q-19:36

اور بےشک ﷲ میرا اور تُمہارا رَبّ ہے، اس کی عِبادت کرو۔ یہی سِیدھا راستہ ہے

۲۔ قُرآن کی شریعت کی پابندی۔

اسلام پر ایمان رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنت اللہ (ایک اللہ پر ایمان) اور شریعت اللہ (اللہ کے احکام) یعنی کتاب قرآن کی پابندی کریں۔ اور فضول کتابوں کو قرآن پر ترجیح نہ دیں۔ قرآن کے احکام تمام مسلمانوں پر فرض ہیں۔ وہ آیات جن میں خدا نے احکام نازل کیے ہیں وہ محکم (واضح/فیصلہ کن) آیات ہیں، یعنی وہ سادہ زبان میں ہیں جنہیں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ: علماء کی حدیث پر مبنی تبلیغ سننے کے بجائے خود اپنی مادری زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام مسلمانوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر ہدایت کی نعمت عطا فرمائے۔ آمین

اِنَّ الَّذِىۡ فَرَضَ عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ‌ ؕ قُلْ رَّبِّىۡۤ اَعۡلَمُ مَنۡ جَآءَ بِالۡهُدٰى وَمَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏ ﴿۸۵﴾

Q-28:85

بے شک اللہ ہی ہے جس نے قرآن کو تم پر فرض کیا ہے۔ وہ ضرور تمہیں تمہاری منزل (مکہ یا آخرت) تک پہنچا دے گا۔ کہہ دو کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون کھلی گمراہی میں ہے

وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ‌ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ ؕ‏ ﴿۵﴾

Q-98:05

اور انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ مُخلِص ہوکر اللہ کی عبادت کریں، اُس کے دین کے سیدھے راستے (شریعتُﷲ) پر چلتے ہوئے، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ اور یہی سیدھا اور پائیدار دین ہے

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّشۡتَرِىۡ لَهۡوَ الۡحَدِيۡثِ لِيُضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ‌ۖ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ ﴿۶﴾

Q-31:06

اور لوگوں میں بعض ایسے ہیں؛ جو بیہودہ حدیثیں خریدتے ہیں۔ تاکہ بغیر عِلم کے (یعنی وہ عِلم جو قُرآن کا نہ ہو اُس سے) لوگوں کو ﷲ کے راستے سے گمراہ کردیں۔ اور اِس کو (یعنی قُرآن کو) مزاق بنالیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

خُدا فرماتا ہے! کہ خُدا نے اَمانت (قُرآن وَ شریعت) کو آسمانوں اور زمِین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا، لیکِن اُنہوں نے اِس کو اُٹھانے سے اِنکار کر دیا۔ اور اِس سے ڈر گئے۔ [میں سمجھتا ہوں یہ واقِعہ اِنسان کی پیدایٔش سے قبل پیش آیا ہوگا۔ شاید خُدا زمین و آسمان اور پہاڑوں کو عِبادت کے لِیے چُننا چاہتا تھا]

لیکِن اِن کے اِنکار کے بعد خُدا نے جِنّات کو عِبادت کے لِیے پیدا کِیا۔ مگر کیونکہ اُن کی خلق آتِشی مادہ سے ہوئی۔ پس اُن میں ٹھراو نہ پایا۔ اور اُس کے بعد اِنسانوں کو خُصوصی طور پر عِبادت کے لِیے مِٹِّی سے خلق کِیا۔ اور کیونکہ اِنسان کمزور اور فِطرت سے جلدباز ہے، شاید جلدبازی میں اِنسان نے یہ امانت اُٹھالی۔ اِسی لِیے خُدا اِنسان کو ظالِم اور جاہِل کہتا ہے۔

اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَالۡجِبَالِ فَاَبَيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا الۡاِنۡسَانُؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوۡمًا جَهُوۡلًا ۙ‏ ﴿۷۲﴾ لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَالۡمُشۡرِكٰتِ وَيَتُوۡبَ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا‏ ﴿۷۳﴾

Q-33:72-73

بے شک ہم نے اَمانت (قُرآن وَ شریعت) کو آسمانوں اور زمِین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا، لیکِن اُنہوں نے اِس کو اُٹھانے سے اِنکار کر دیا۔ اور اِس سے ڈر گئے۔ اور اِنسان نے اِسے اُٹھا لِیا، وہ ظالِم اور جاہِل تھا۔ ۙ ﴿۷۲﴾ تاکہ خدا مُنافق مَرد وعورت اور مُشرک مَرد اور عورت کو عذاب دے، اور خدا مومِن مَرد ومومِن عورت کو بخش دے، اور خدا بخشنے والا مہربان ہے ﴿۷۳﴾

۳۔ لوگوں کے ساتھ اچھا سُلوک کرنے کا حُکم۔

خدا کا حکم ہے! معاشرے میں محبت اور امن کا رشتہ قائم کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اپنے بڑوں کی عزت اور احترام کریں۔ اپنے چھوٹوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ احسان کا پہلا حق والدین کا ہے۔ دوسرا حق رشتہ داروں کا ہے۔ تیسرا حق یتیموں اور بے گھر لوگوں کا ہے۔ چوتھا حق قریبی پڑوسیوں کا ہے اور پھر دور کے پڑوسیوں کا۔

خدا کا حکم ہے کہ کوئی کسی کا مزاق نہ اُڑاۓ۔ کسی کو اپنے سے کمتر نہ سمجھے۔ ہو سکتا ہے کہ خدا کے یہاں اعمال کے اعتبار سے اس کی حیثیت تم سے کہیں زیادہ ہو۔ ہر انسان کو خدا نے بنایا ہے۔ اور خدا کی بنائی ہوئی ہر شٔے بہترین ہے۔ پس کوئی خود کو دوسروں سے زیادہ خوبصورت یا بہتر نہ سمجھے۔ یہ تکبر کی علامت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سامنے والے سے خوبصورت الفاظ میں بات کی جائے۔ اور جواب میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت الفاظ کہے جائیں یا کم از کم وہی الفاظ کہے جائیں۔

وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ۙ‏ ﴿۳۶﴾

Q-04:36

اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، قریبی پڑوسی، دور کے پڑوسی، ساتھی، مسافر اور ان کے ساتھ جو تمہارے دست راست ہیں۔ بے شک اللہ متکبر اور غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنُوۡا خَيۡرًا مِّنۡهُمۡ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُنَّ خَيۡرًا مِّنۡهُنَّ‌ۚ وَلَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ‌ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِيۡمَانِ‌ ۚ وَمَنۡ لَّمۡ يَتُبۡ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ‏ ﴿۱۱﴾

Q-49:11

اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، شاید وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں، شاید وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور ایک دوسرے پر تہمت نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد برے ناموں سے پکارنا برا ہے اور جو توبہ نہ کرے وہی ظالم ہیں۔

وَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ‏ ﴿۱﴾ وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَۙ‏ ﴿۲﴾ وَهٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِۙ‏ ﴿۳﴾ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِىۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴿۴﴾

Q-95:01-04

انجیر اور زیتون کی قسم (1) اور کوہ سینا (2) اور اس محفوظ شہر کی (3) یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورتوں میں پیدا کیا ہے (4)

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا‏ ﴿۸۶﴾

Q-04:86

اور جَب تمہیں کِسی تَحیہ (کلام) سے نوازا جائے، تو تُم اُس سے بہتر تَحیہ (کلام) کے سَاتھ جواب دو، یا اُسی طرَح کے اَلفاظ میں جواب دو۔ بیشَک اللہ ہر چیز کا حِساب لینے والا ہے

۴۔ یومِ آخِرت اور اَبدِی زِندگی۔

اور یومِ آخِرت پر ایمان لائیں، جب دوسرا سُور پُھونکا جائیگا، اور اُس آواز پر زمین سارے مُردوں کو باہر پھینک دیگی۔ اور روحوں کو مِلایا جائیگا۔ تَب لوگ مُنتشِر ہوکر تین جماعت میں تقسیم ہوجائینگے۔ اور تَب ہر اِنسان زمین پر کی گئی اپنی نیکی اور بدی کو جان لیگا۔ اُس عدالت میں ایک ﷲ پر ایمان اور شریعت کا پاس رکھنے والے لوگوں کو بالادستی حاصل ہوگی۔ نہ اُن کو کوئی خوف ہوگا، اور نہ غم۔ کافِر اور ظالِم لوگ ذلیل و خوار ہونگے۔

الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ وَيُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَۙ‏ ﴿۳﴾

Q-02:03

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (وہی کامیاب لوگ ہیں)

اِذَا زُلۡزِلَتِ الۡاَرۡضُ زِلۡزَالَهَا ۙ‏ ﴿۱﴾ وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا ۙ‏ ﴿۲﴾ يَوۡمَٮِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ اَشۡتَاتًا ۙ لِّيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡؕ‏ ﴿۶﴾ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗ ؕ‏ ﴿۷﴾ وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ‏ ﴿۸﴾

Q-99:01-02, 06-08

جَب زمِین زَلزلے کے ساتھ ہِلائی جائیگی۔ ﴿۱﴾ اور زمَین اپنے اندر کے بوجھ (مُردوں) کو نِکالکر باہر پھینک دیگی۔ ﴿۲﴾ اور اُنھیں اُن کے اعمال دِکھائے جاینگے۔ ﴿۶﴾ پس جِس شخص نے (زمین پر) ذرّہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اُس کو دیکھ لیگا۔ ﴿۷﴾ اور جِس شخص نے ذرّہ برابر بُرائی کی ہوگی، وہ اُس کو بھی دیکھ لیگا۔ ﴿۸﴾

لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ ﴿۱۱۹﴾

Q-05:119

سچّوں کے لیے جنّتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔

۵۔ تمام انبیاء اور ان کی کتابوں پر ایمان۔

تمام انۢبِیأ اور اُن پر نازِل کِتابؤں (توریت، اِنجیل اور زبور اور صحیفؤں) پر بھی ایمان لاۓ۔ اور اپنے نبی اور دوسرے انۢبیأ کے مابین فرق نہ کریں۔ کیونکہ تمام انۢبیاء اپنے اپنے دور کا سِلسِلہ ہیں۔ بیشک قران کو اللّٰہ تعالیٰ نے مکمل قرار دیا۔ مگر پہلی کتابیں اور صحیفے بھی قران کا ہی سبق دیتی ہیں۔ بشرطیکہ اُن کتابوں کا مخلوط حِصہ قطع کر دیا جاۓ۔

اس مخلوط حصے کو الگ کرنے کا آلہ قرآن ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قرآن اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ دوسرے طریقہ کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ کے حکم میں کوئی بڑا تضاد (ٹکراو) نہیں ہے۔ لہٰذا جہاں کہیں بھی حق کے ساتھ تضاد ہو، وہ یقیناً مخلوط جز ہے۔

قُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَآ اُنۡزِلَ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَمَآ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى وَعِيۡسٰى وَمَآ اُوۡتِىَ النَّبِيُّوۡنَ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ وَنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ‏ ﴿۱۳۶﴾

Q-02:136, 03:84

(مسلمانو) کہو کہ ہم خُدا پر اِیمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اُتری اس پر، اور جو (صحیفے) اِبراہیمؑ اور اِسمٰعیلؑ اور اِسحاقؑ اور یَعقوبؑ اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے اُن پر، اور جو (کتابیں) موسیٰؑ اور عیسٰیؑ کو عَطا ہوئے ان پر، اور جو دوسرے پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے مِلی اُن سب پر اِیمان لائے۔ ہم اِن پیغمروں میں سے کِسی میں کُچھ فرق نہیں کرتے۔ اور ہم اُسی (خدائے واحِد) کے فرمانبردار (مُسلِم) ہیں ﴿۱۳۶﴾

وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓٮِٕكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ﯀ لَا نُفَرِّقُ بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِهٖ‌﯀ وَقَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا‌ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿۲۸۵﴾

Q-02:285

اور ہر ایک مومِن جو ﷲ پر ایمان لاۓ، اور اس کے فرشتوں پر، اور اس کی کتابوں پر، اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاۓ، اورکہے! کہ ہم ﷲ کے تمام پیغمبروں میں مابین ہمارے پیغمبر کے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حُکم) سُنا، اور قُبول کیا۔ اے میرے رَبّ ہم تیری بخشِش مانگتے ہیں۔ اور ہم کو تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَمَا كَانَ هٰذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ يُّفۡتَـرٰى مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلٰـكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِىۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيۡلَ الۡكِتٰبِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴿۳۷﴾

Q-10:37

یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور نے نہیں بنایا۔ بلکہ یہ اِس سے پہلی کتابوں کی تصدیق اور تفصیل ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ‌ؕ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا‏ ﴿۸۲﴾

Q-04:82

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً وہ اس میں بہت زیادہ ٹکراو (تضاد) پاتے۔

وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِمَۤا اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَۚ وَبِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَؕ‏ ﴿۴﴾ اُولٰٓٮِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۵﴾

Q-02:04-05

اور جو اِیمان رکھتے ہیں اِس (قُرآن) پر جو آپ پر نازِل کِیا گیا، اور جو آپ سے پہلے (انبیأ پر) نازِل کِیا گیا، اور جو آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ﴿۴﴾ یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ﴿۵﴾

۶۔ فُرقان (ترازوں) قائم کریں۔

نہ کم تولے اور نہ کم ناپے۔ ترازوں سہی سہی انصاف کے ساتھ قائم کرو۔ کم تولنا اور کم ناپنا خدا کی نظر میں بہت بڑا ظلم ہے۔ خدا نے شعیبؑ کی قومِ مدین کو کم تولنے اور کم ناپنے کی وجہ سے تباہ کر دیا تھا۔ تاکہ عبرت ہو۔

کم تولنے سے رزق میں اضافہ نہیں ہوتا۔ بلکہ برکت ضائع ہو جاتی ہے۔ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے۔ اور جس کے لیے چاہتا ہے محدود کر دیتا ہے۔ تو گناہ گار نہ بنو۔

اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا ﴿۳۰﴾

Q-17:30

بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ‏ ﴿۸۵﴾

Q-07:85

پَس پیمائیش اورتول کو پورا کرو ۔اور لوگوں کی چیزؤں میں کمی مت کرو۔ زمین میں فساد مت پھیلاؤ، جبکہ وہاں امن قایٔم ہو۔ اور یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اگر تُم مومِن ہو.

وَاَوۡفُوا الۡـكَيۡلَ اِذَا كِلۡتُمۡ وَزِنُوۡا بِالۡقِسۡطَاسِ الۡمُسۡتَقِيۡمِ‌ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا‏ ﴿۳۵﴾

Q-17:35

اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے.

۷۔ زمین میں فساد نہیں۔

اور مُلک میں بدامنی نہ پھیلائیں۔ کِسی کے ساتھ ذِیادتی نہ کریں۔ اگر کوئی بُری بات کہے تو جواب اچھی بات سے دیں۔ لوگوں کے بیچ صُلح کرائیں۔ زمین میں فساد کرنے والے لوگ ﷲ کو پسند نہیں۔

وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا وَادۡعُوۡهُ خَوۡفًا وَّطَمَعًا‌ ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿۵۶﴾

Q-07:56

اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ برپا کرو۔ اور خوف اور امید کے ساتھ اسے پکارو۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِىۡ الۡاَرۡضِۙ قَالُوۡاۤ اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ‏ ﴿۱۱﴾ اَلَا ۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَلٰـكِنۡ لَّا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿۱۲﴾

Q-02:11-12

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ (11) بلاشبہ یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا‏ ﴿۵۳﴾

Q-17:53

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ کہو جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان ان کے درمیان تفرقہ ڈالتا ہے۔ درحقیقت، شیطان ہمیشہ سے، بنی نوع انسان کا، کھلا دشمن ہے۔

اِدۡفَعۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ السَّيِّئَةَ‌ ؕ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ‏ ﴿۹۶﴾

Q-23:96

برائی کو اس بات سے دور کرو جو بہتر ہو۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کیا بیان کرتے ہیں۔

وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا‏ ﴿۳۳﴾

Q-17:33

اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوائے حق کے۔ اور جو ناحق مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دے دیا ہے لیکن وہ جان لینے کے معاملے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ درحقیقت، اسے [قانون کے ذریعے] حمایت حاصل ہے۔

۸۔ ذکوٰۃ ادا کرو۔

اور یہ کہ اپنی محنت سے کمائی ہوئی روزی جو کہ بہت عزیز ہوتی ہے، اُس کا ایک حِصّہ غریبوں، یتیموں، رِشتہ داروں اور لوگوں کی گردن چُھڑانے (لوگوں کو آزاد کرانے) کے لِیۓ خرچ کریں۔ خُدا کو تُمہارا خَرچ کرنا بہت پسند ہے۔ خُدا تُمہارے اِس خرچ کا دوگُنا دُنیا میں ہی لوٹا دیتا ہے۔ جبکہ اُس کا چار گُنا، سات گُنا، سو گُنا اور سات سو گُنا اَجر آپ کی نِیت کے مُطابِق آخِرت میں دیگا۔

وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآٮِٕلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ‌ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡاۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡاؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ‏ ﴿۱۷۷﴾

Q-02:177

اور جو اپنا مال اس کی محبت کے باوجود رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مسکینوں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے دیتا ہے۔ اور نماز قائم کرتا ہے اور زکوٰۃ دیتا ہے۔ اور جب وہ عہد کرتا ہے تو وہ اپنے عہد کا سچا ہوتا ہے۔ اور وہ سختی، مصیبت اور جنگ میں صبر کرتا ہے۔ یہی سچے ہیں اور یہی لوگ متّقی ہیں۔

وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ‌ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ ؕ‏ ﴿۵﴾

Q-98:05

اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین میں اس کے لیے خالص ہو کر، حق کی طرف رجوع کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ اور یہی دائمی دین ہے۔

وَرَحۡمَتِىۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَىۡءٍ‌ ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ‌ۚ‏ ﴿۱۵۶﴾

Q-07:156

اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔ میں اسے ان لوگوں کو عطا کروں گا جو نیک ہیں، ذکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیات پر ایمان لائیں گے۔

مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَلَهٗۤ اَجۡرٌ كَرِيۡمٌ ۚ‏ ﴿۱۱﴾

Q-57:11

کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تو وہ اس کے لیے کئی گنا بڑھا دے؟ اور اس کے لیے بڑا اجر ہے۔

مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِىۡ كُلِّ سُنۡۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ‌ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ‏ ﴿۲۶۱﴾

Q-02:261

جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگتی ہیں۔ ہر بال میں سو دانے ہیں۔ اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (اپنا اجر) بڑھا دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا اور جاننے والا ہے۔

۹۔ خدا کا شکر ادا کرو۔

ﷲ کا شُکر ادا کریں۔ ﷲ کا شُکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ سجدہ یعنی نماز ہے۔ نماز ہر مُسلمان پر فرض کی گئی ہے۔ یہ وہ عمل ہے، جِس میں بندہ اپنے پروردِگار کے سامنے اپنا سر سجدے میں رکھکر فرمابرداری قُبول کرتا ہے۔

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَكّٰىۙ‏ (۱۴) وَذَكَرَ اسۡمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰى ؕ‌ (۱۵)

Q-87:14-15

یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے آپ کو پاک کیا (14) اور اپنے رب کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی.

اِنَّنِىۡۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِىۡۙ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكۡرِىۡ‏ ﴿۱۴﴾

Q-20:14

بے شک میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔

مَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ حَرَجٍ وَّلٰـكِنۡ يُّرِيۡدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهٗ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿۶﴾

Q-05:06

خدا تم پر (نماز سے) کسی قسم کی تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ وہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرنا چاہتا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ۙ حُنَفَآءَ وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ‌ وَذٰلِكَ دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ ؕ‏ ﴿۵﴾

Q-98:05

اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین میں اس کے لیے خالص ہو کر، حق کی طرف رجوع کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ اور یہی دائمی دین ہے۔

۱۰. موت کا وقت مُعیّن ہے۔

زِندگی اور موت ﷲ کے ہاتھ ہے۔ اور کِسی بڑی عُمر والے آدمی کی عُمر بڑھائی نہیں جاتی ہے اور نہ کم سِن موت مرنے والے بچّے کی عُمر کم کی جاتی ہے۔ بلکہ موت ﷲ کے مُقرّر کِیے ہوے مُعیّن وقت پر آتی ہے، جو مُقدّس کِتاب لوحِ محفوظ میں درج ہوتی ہے۔

اگر کِسی کی موت بے وجہ قتل ہونے سے یا کِسی حادثہ میں ہوتی ہے، تو وہ بھی اپنے وقت پر ہی ہوتی ہے۔ مگر خُدا نے اِنسان کو زمین پر آزمائیش اور عِبادت کے لِیے بھیجا ہے قَتل ہونے یا قَتل کرنے کے لِیے نہیں۔ اِس لِیے قاتِل سنگین گُناہ میں گِرفتار ہوگا۔ خُدا فرماتا ہے کہ! اگر کِسی شخص نے ایک انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری اِنسانیت کو قتل کر دیا۔ یعنی اُس نے ایک اِنسان کا قتل نہیں کِیا بلکہ بے شُمار قتل کِیے۔ اور اگر صبر کِیا، اور کِسی کی جان بخشی۔ تو بے شُمار جان بخشی۔ جِس کا اَجر بھی بے شُمار ہوگا۔

وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ ﴿۱۴۵﴾

Q-03:145

اور اللہ کے حکم کے بغیر کوئی جان نہیں مر سکتی، ایک مقررہ حکم ہے۔

وَاللّٰهُ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ثُمَّ جَعَلَـكُمۡ اَزۡوَاجًا ؕ وَمَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِهٖ﯀ وَمَا يُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌ‏ ﴿۱۱﴾

Q-35:11

اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر تمہیں جوڑا بنایا۔ اور نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم کے۔ اور نہ کسی کو لمبی عمر دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے سوائے اس کے کہ یہ ریکارڈ میں ہے۔ بے شک یہ اللہ کے لیے آسان ہے۔

كَتَبۡنَا عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اَنَّهٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا ‌ؕ ﴿۳۲﴾

Q-05:32

ہم نے بنی اسرائیل پر حکم دیا کہ جس نے کسی جان کو قتل کیا سوائے اس کے کہ کسی جان کے بدلے (یعنی قصاص کے بغیر) یا زمین میں فساد برپا ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔ اور جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔

۱۱۔ عہد (قسموں) کو پُورا کرو۔

خُدا کے نام پر کھائی گئ قسموں اور وعدوں کو پورا کرنا مومِن کی پہچان ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جب تک بہت ضروری نہ ہو ایک مومِن نہ قسم کھاتا ہے اور نہ وعدہ کرتا ہے۔ جبکہ جھوٹا اور فریبی آدمی دِن بھر خُدا کو گواہ بناکر قسمیں اور وعدے لیتا ہے۔ خُدا مومِنوں کو اُن کی قسموں کو پُورا کرنے کا حُکم دیتا ہے۔ خُدا سچّے لوگوں کو اُن کی سچّائی سے آزماتا ہے۔

وَ اَوۡفُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ اِذَا عَاهَدتُّمۡ وَلَا تَنۡقُضُوا الۡاَيۡمَانَ بَعۡدَ تَوۡكِيۡدِهَا وَقَدۡ جَعَلۡتُمُ اللّٰهَ عَلَيۡكُمۡ كَفِيۡلًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ‏ ﴿۹۱﴾ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّتِىۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ اَنۡكَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًاۢ بَيۡنَكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرۡبٰى مِنۡ اُمَّةٍ‌ ؕ اِنَّمَا يَبۡلُوۡكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ‌ؕ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مَا كُنۡـتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ‏ ﴿۹۲﴾

Q-16:91-92

اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم اسے لے لو اور ان کی تصدیق کے بعد قسمیں نہ توڑو جب کہ تم اللہ کو اپنا ضامن بنا چکے ہو۔ بے شک اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ (91) اور اس شخص کی طرح نہ بنو جس نے اپنا کاتا ہوا دھاگہ مضبوط ہونے کے بعد کھول دیا اور اپنے لیے نکلنے کا راستہ نکال لیا۔ کیا تمہارا ایمان آپس میں پھوٹ ڈالنے کا ذریعہ ہے تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے زیادہ ہو؟ خدا صرف اس کے ذریعے تمہارا امتحان لے رہا ہے اور وہ قیامت کے دن تم پر وہ بات ضرور واضح کر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔ (92)

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِىۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰـكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الۡاَيۡمَانَ‌ ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ‌ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ‌ ؕ وَاحۡفَظُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿۸۹﴾

Q-05:89

خدا تم سے غیر ارادی قسموں کا حساب نہیں لے گا، لیکن وہ تم سے اس بات کا حساب لے گا جو تم نے جان بوجھ کر کھائی ہیں۔ ایسی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اوسطاً جتنا آپ اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہیں، یا انہیں لباس پہناتے ہیں، یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ لیکن جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا چکے ہو۔ اور اپنی قسموں کا خیال رکھو۔ اس طرح اللہ تم پر اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡيَتِيۡمِ اِلَّا بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ حَتّٰى يَبۡلُغَ اَشُدَّهٗ ؗ‌ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَهۡدِ‌ۚ اِنَّ الۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـــُٔوۡلًا‏ ﴿۳۴﴾

Q-17:34

اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ اور عہد کو پورا کریں۔ بیشک عہد کی باز پرس ہوگی۔

وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ‏ ﴿۱۷۷﴾

Q-02:177

اور جب وہ عہد کرتا ہے تو وہ اپنے عہد کا سچا ہوتا ہے۔ اور وہ سختی، مصیبت اور جنگ میں صبر کرتا ہے۔ یہی لوگ سچے ہیں - اور یہی متّقی ہیں۔

۱۲۔ سَچّی گواہی دو۔

خُدا اِنصاف اور حق کا حُکم دیتا ہے۔ خُدا فرماتا ہے کہ: اِنصاف کے لِیے گواہی دو بھلے ہی وہ خود تُمہارے خِلاف ہو یا تُمہارے ماں باپ کے خِلاف ہو یا پِھر کوئی خاص رِشتےدار کے خِلاف ہو۔ کِسی بھی صورت اِنصاف کا ساتھ نہ چھوڑو۔ خُدا فرماتا ہے اِنصاف اور گواہی کے وقت امیر وغریب نہ دیکھو۔ بِنا کُچھ چھِپائے جو جانتے ہو اُس کو بیان کرو۔ جو چھِپائیگا وہ گُنہگار ہوگا۔

کچھ لوگ مبہم گواہی دیتے ہیں۔ وہ لوگ دونوں گِروہ کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا خواہِش نفس کی خاطِر اِنصاف سے ہٹنا چاہتے ہیں۔ خُدا فرماتا ہے کہ: وہ ہر ایک کا عمل دیکھ رہا ہے۔ سو اِنصاف کے پہرےدار بنو۔ اِنصاف قائم کرنا تَقؤا کے سب سے زِیادہ قریب ہے۔

وَلَا تَكۡتُمُوا الشَّهَادَةَ ؕو َمَنۡ يَّكۡتُمۡهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُهٗ‌ؕ وَللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِيۡمٌ‏ ﴿۲۸۳﴾

Q-02:283

اور گواہی کو مت چِھپاؤ۔ جو شَخص اِسے چِھپائیگا، اُس کا دل گناہگار ہو جائے گا۔ تم جو کچھ کرتے ہو، اللہ اُس سے پوری طرح واقف ہے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّامِيۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَلَوۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ اَوِ الۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ‌ ؕ اِنۡ يَّكُنۡ غَنِيًّا اَوۡ فَقِيۡرًا فَاللّٰهُ اَوۡلٰى بِهِمَا‌ۚ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡهَوٰٓى اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ‌ۚ وَاِنۡ تَلۡوٗۤا اَوۡ تُعۡرِضُوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرًا‏ ﴿۱۳۵﴾

Q-14:135

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف پر ثابت قدم رہو، اللہ کے لیے گواہ بنو، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ کوئی امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں کا زیادہ حقدار ہے۔ پس خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو، کہ اِنصاف سے ہٹ جاؤ۔ اگر تم پیچیدہ گواہی دو۔ یا (گواہی دینے سے) منہ موڑو، تو یقیناً اللہ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ ؗ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا‌ ؕ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰىؗ‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿۸﴾

Q-05:08

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے لیے ثابت قدم رہو، انصاف پر گواہی دینے والے بنو، اور کسی قوم کی عداوت تمہیں انصاف سے ہٹنے پر آمادہ نہ کریں۔ انصاف کرو؛ جو تقویٰ کے قریب تر ہے۔ اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔

۱۳۔ تَکبُّر! کُفر کا راستہ۔

تکبُّر ایک ایسی برائی ہے جو انسان کو کُفر کا راستہ دِکھاتی ہے۔ ایسا انسان خُدا کی عِنائیتوں کا شُکر ادا نہیں کرتا۔ بلکہ سمجھتا ہے کہ اُس کے پاس جو ہے۔ وہ اُس کی محنت اور عقل کی وجہہ سے ہے۔ زمین پر اکڑ کر چلتا ہے۔ غریب لوگوں کی قیمت زمین پر رینگتے کیڑوں سے زیادہ نہیں سمجھتا۔ خود کو کامیاب سمجھنے والے یہ لوگ خُدا کی نظر میں گھاٹے میں ہیں۔

اِبلیس کی مثال سے بھی یہی سبق ملتا ہے کہ تکبُّر نے اُسے مردود بنا دیا تھا۔ خُدا عاجِزی کرنے والے، اور فرمابرداری کرنے والے مومِنوں کو پسند فرماتا ہے۔ خُدا فرماتا ہے! زمین کی زِندگی محض لہو ولُعاب ہے۔ اصِل اور ابدی زِندگی آخِرت کی ہے۔

وَالۡعَصۡرِۙ‏ ﴿۱﴾ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِىۡ خُسۡرٍۙ‏ ﴿۲﴾ اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۙ وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴿۳﴾

Q-103:01-03

عَصر کے وقت کی قَسم (1) بیشک انسان خسارے میں ہے، (2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی۔ (3)

وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍۚ‏ ﴿۱۸﴾ وَاقۡصِدۡ فِىۡ مَشۡيِكَ وَاغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِكَ‌ؕ اِنَّ اَنۡكَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِيۡرِ ﴿۱۹﴾

Q-31:18-19

اور لوگوں سے اپنے گال کو تکبر سے نہ پھیر اور زمین پر اکڑ کر نہ چل۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کسی بڑے فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (18) اور اپنی رفتار میں اعتدال اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست کرو۔ درحقیقت، سب سے زیادہ ناپسندیدہ آواز گدھوں کی آواز ہے۔

وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَؗ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿۳۴﴾

Q-02:34

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور تکبر سے کام لیا اور وہ کافروں میں سے تھا۔

وَلَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا‌ ۚ اِنَّكَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا‏ ﴿۳۷﴾ كُلُّ ذٰ لِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنۡدَ رَبِّكَ مَكۡرُوۡهًا‏ ﴿۳۸﴾

Q-17:37-38

اور زَمین پر اَکڑ کر نہ چَلو۔ تُم نہ تو زمین کو پَھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بُلندی تک پہنچ سکتے ہو (۳۷) یہ تکبُّری بُرائیاں تیرے رب کے نضدیق سخت ناگوار ہیں (۳۸)

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الۡمُلۡكِ تُؤۡتِى الۡمُلۡكَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الۡمُلۡكَ مِمَّنۡ تَشَآءُ ؕ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُ‌ ؕ بِيَدِكَ الۡخَيۡرُ‌ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ‏ ﴿۲۶﴾

Q-03:26

کہو، "اے اللہ، تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، تو جسے چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے، جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے، اور تو جسے چاہتا ہے سرفراز کرتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کرتا ہے۔" ہر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ یقیناً تُو ہر چِیز پر پُوری قُدرت رکھتا ہے۔

وَمَا هٰذِهِ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَاۤ اِلَّا لَهۡوٌ وَّلَعِبٌ‌ؕ وَاِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ لَهِىَ الۡحَـيَوَانُ‌ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿۶۴﴾

Q-29:64

اور یہ دُنیا کی زِندگی تو محض کھیل اور تمَاشا ہے۔ بیشک آخِرت کا گھر ہی اصلی زِندگی ہے، کاش وہ یہ جانتے!

۱۴۔ برائی کا بدلہ بھلائی سے دو۔

خُدا فرماتا ہے! اگر کوئی تُمہیں بُری بات کہے، تو اُس کا جواب بُری بات سے نہ دو۔ بلکہ ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو۔ اور خُدا سب کُچھ دیکھ رہا ہے۔

اِدۡفَعۡ بِالَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ السَّيِّئَةَ‌ ؕ نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ‏ ﴿۹۶﴾

Q-23:96

اور بُری بات کے جوَاب میں ایسِی بات کہو، جو نِہایت اَچھی ہو۔ اور یہ جو کُچھ بیان کرتے ہیں، ہمیں خُوب مَعلوم ہے.

۱۵۔ سلام۔

اَلسّلامُ عَلیکُم" (تم پر خُدا کی سلامتی ہو) ۔ یہ کوئی دو لفظ نہیں بلکہ دُعأوں کا تحفہ ہے۔ ایک ایسا تحفہ، جِس کو دینے والا اور قُبول کرنے والا دونوں کی نیکیوں میں اِضافہ ہوتا ہے۔ یہ خُدا کی طرف سے بھی بابرکت اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اِس لِیے خُدا حُکم دیتا ہے، جب اپنے گھروں میں داخِل ہو تو گھر کے لوگوں کو سلام کرو۔

فَاِذَا دَخَلۡتُمۡ بُيُوۡتًا فَسَلِّمُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِكُمۡ تَحِيَّةً مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَيِّبَةً‌ ﴿۶۱﴾

Q-24:61

جَب تُم گھروں میں داخِل ہو، تو اَپنے گھر کے لوگوں کو سَلام کرو، یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکِیزہ تحفہ ہے۔

اِبراھیمؑ کے پاس جب خوشخبری سُنانے اِنسان کی شکل میں فرِشتے آئے تھے، جو اُنکے لِیے انجان تھے۔ تب اِبراھیمؑ نے اُنکو مُسافِر جانکر سلام کِیا تھا۔ اور کھانا بھی تیّار کرایا۔ خُدا کے اِس فرمان سے یہ بات ثابِت ہوتی ہے کہ سلام رِشتےداروں، مومِنوں کے علاوہ انجان لوگوں کو بھی کِیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ فرِشتوں کے سامنے کھانا رکھنے سے پہلے تک اِبراھیمؑ نہیں جانتے تھے کہ اُن کے مہمان فرِشتے ہیں۔

{یہ دلیل اس لیے پیش کی گئی ہے کیونکہ بہت سے علماء کا خیال ہے کہ کافر کو *سلام* نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرا نقطہ یہ ہے کہ خدا نے کافر کے لیے ان کی موت کے *بعد* دعا کرنے سے منع کیا ہے نہ کہ ان کے زندہ رہتے ہوئے}۔

وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ بِالۡبُشۡرٰى قَالُوۡا سَلٰمًا‌ ؕ قَالَ سَلٰمٌ‌‏ ﴿۶۹﴾

Q-11:69

اور بَیشک ہمارے فرِشتے اِبراہیم علیہ السّلام کے پاس خُوشخَبری لے کر آئے۔ اُنہوں نے کہا: "سَلام!" اِبراہیم علیہ السّلام نے جواب دیا: "سَلام!"

خُدا نبیؐ سے فرماتا ہے کہ جب تُمہارے پاس مومِن لوگ آئے، تو اُن کو "اَلسّلامُ عَلیکُم" کہو۔ اور پھِر خُدا فرماتا ہے کہ تُمہارے رَبّ نے اپنے اُوپر رحمت لازِم کر لی ہے۔ اِس بات سے ثابِت ہوتا ہے کہ ایک مومِن دوسرے مومِن کو سلام کہتا ہے۔ تو اُس پر خُدا کی رحمت لازمی ہوتی ہے۔

وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ‌ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ‌ ۙ ﴿۵۴﴾

Q-06:54

اور جب تُمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر اِیمان رکھتے ہیں، تو کہو: "اَلسّلامُ عَلیکُم"! تُمہارے رَبّ نے اپنے اُوپر رَحمت لِکھ لی ہے.

خُدا فرماتا ہے! اگر تُمہیں کوئی کِسی تَحیہ (سلام یا کلام) سے نوازے، تو تُم اُس کو بہتر کلام /سلام سے جواب دو۔ یا کم ازکم اُسی طرح کے الفاظ میں جواب دو۔
مِثال۔
جب کوئی تُمہیں کہے۔ "اَلسّلامُ عَلیکُم" (تم پر خُدا کی سلامتی ہو) ۔
تب آپ کو جواب دینا چاہیے۔ "وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ" (اور تم پر بھی سلامتی ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں) ۔ یہ جواب اَلسّلامُ عَلیکُم سے زیادہ جامع اور بابرکت ہے۔
یا کم ازکم اُس کے کلام کو ہی واپس کردو۔ مثلاً کہو۔ "وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ"۔

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا‏ ﴿۸۶﴾

Q-04:86

اور جَب تمہیں کِسی تَحیہ (سلام) سے نوازا جائے، تو تُم اُس سے بہتر تَحیہ (سلام) کے سَاتھ جواب دو، یا کم از کم اسی طرح لوٹا دو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

قِیامت کے دِن جنّت کے راستے میں اور داخلی دروازہ پر فرِشتے "اَلسّلامُ عَلیکُم" پیش کرینگے۔ اور جنّت کے اندر رَبِّ رَحِیم کی طرف سے سلام کی گُونج سُنائی دیگی۔ تو حضرات غور کریں کہ خُدا نے سلام کے اِن دو لفظوں کو کِتنا مُبارک اور رَحمت والا بنایا ہے۔

وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ اِلَى الۡجَـنَّةِ زُمَرًا‌ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوۡهَا وَفُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡهَا خٰلِدِيۡنَ‏ ﴿۷۳﴾

Q-39:73

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھول دیے جائیں گے تو اس کے محافظ کہیں گے کہ تم پر "سلام" ہو، تم نے اچھا کام کیا ہے، اس لیے اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہو جاؤ۔

سَلٰمٌ ࣞ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ‏ ﴿۵۸﴾

Q-36:58

"السلام علیکم!" رحمٰن رب کی طرف سے۔ (یہ جنّت میں سنا جائے گا) (58)

************